شاہی بادامی قورمہ

دعوتوں کی جان اور مہمانوں کی شان سمجھا جانے والا شاہی بادامی قورمہ ایسی ڈ ش ہے جو ہر دل کو پسند ہے۔ مُغل بادشاہوں کے کچن سے نکلنے والی یہ مشہور ڈش شاہی دستر خوانوں کی زینت تھی وہی نوابوں اور اُمراء کی محفلوں کی بھی رونق تھی۔ آج بھی شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا کوئی اور تقریب قورمہ ہر صورت موجود ہوتا ہے اور سب لوگ بڑے شوق سے اِس کو تافتان،شیرمال اورخمیری روٹی کے ساتھ کھانا پسند کرتے ہیں۔ اِس کی تیاری میں بیف، مٹن اور چکن سب کام آتے ہیں کسی کو بیف قورمہ پسندہے تو کسی کو مٹن اور چکن قورمہ کھاناپسند ہوتاہے۔
سبز الائچی اور گرم مصالحوں کا استعمال اس کی لذت میں اضافہ کرتا ہے وہی بادام اور پیسا ہوا کھوپرا اِس کی گریوی میں استعمال کیے جاتے ہیں اِس کی گارنش میں بھی بادام ثابت ڈالے جاتے ہیں جن سے اِن کی گریوی کو مزید ذائقے دار بنایا جاتا ہے۔ زعفران اور کیوڑہ قورمہ کی خوشبو بڑھانے میں کام آتے ہیں۔
جب قورمہ تیار ہوتاہے تو دُور دُور تک قورمے کی خوشبو پھیلتی ہے اور ہر دل کو للچاتی ہے۔ عید ہویا کوئی اورتہوار شاہی بادامی قورمہ ضرور بنایا جاتا ہے یہ پاکستان کے ہرشہر میں اپنی انتہاانگیزخوشبو کے ساتھ من پسند کھانے کے طورپر کھایا جاتا ہے اور پسند کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ انڈیا کی بھی یہ خاص ڈش ہے کیونکہ یہ مغل بادشاہوں کے دَور کی ڈش ہے۔ جب پاکستان اور ہندوستان ایک ہی تھے جب سے لے کر اب تک یہ ہر دور کی پسندیدہ ترین ڈش رہی ہے۔دہلی والوں کا شاہی بادامی قورمہ تو خاص طورپر بہت مشہور تھا اور اب بھی بعض گھرانے جن کا تعلق دہلی سے ہے اُن کے گھر اِس ڈش کو خاص اہتمام سے بنایا جاتا ہے۔
مختلف کیٹرنگ والے اِس شاہی ڈش کیلئے خاص ماہر باورچی رکھتے ہیں جو اس کو پکانے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ آج بھی ہمارے گھروں کی خواتین بادامی قورمہ بڑے دل سے پکاتی ہیں اور گھر آنے والوں مہمانوں کے آگے پیش کرکے مہمان نوازی کا بہترین مظاہرہ کرتی ہیں کیونکہ مہمانوں کی مہمان نوازی ہمارے کلچر کا خاص انداز ہے اور ہم سب کو اس انداز سے پیار ہے۔

Top