بریانی سے پلاؤ اور پلاؤ سے مندی تک کا سفر

ہر ملک کی اپنی روایت اورثقافت ہوتی ہے اور اُن کے کلچر کی عکاسی اُن کے کھانوں
سے ظاہر ہوتی ہے۔پوری دنیا میں چاول انسانی غذا کا اہم حصہ مانا جاتا ہے اور اِس کو مختلف طریقوں سے پکایا اور کھایا جاتا ہے۔ چکن، کیمل، بیف،مٹن ، سی فوڈ کے علاوہ مختلف اقسام کی سبزیوں کے ساتھ ملاکر نت نئی ڈشز بنائی جاتی ہیں اور انتہائی ذوق وشوق کے ساتھ کھائی جاتی ہیں اگریہ کہاجائے کہ چاول ہر صورت میں ہر دل کی پسند ہیں تو بے جانہ ہوگا پوری دُنیا میں چاولوں کو مرغوب غذا سمجھاجاتا ہے۔ پُرانے وقتوں میں ہمارے آباؤ اجداد چاولوں سے بریانی اور پلاؤ بناتے تھے مختلف اقسام کے گوشت میں چاول کے ساتھ مختلف مصالحہ جات مکس کرکے پکایا جاتا تھا اور زعفران کا بھی استعمال کیا جاتا تھا جس سے بریانی ہو یاپلاؤاِس کی لذت میں اضافہ ہوتا تھا اور خوشبو کمال کی ہوتی تھی ساتھ میں کئی طرح کی چٹنیاں بھی بنائی جاتی تھی جس سے کھانے کی لذت دوبالا ہوجاتی تھی۔۔

وقت کے ساتھ ساتھ بریانی اورپلاؤ کا ٹرینڈ بڑھتا گیا اورمغلیہ دُور سے لے کر اب تک یہ پسندیدہ کھانوں میں شمار کئے جاتے تھے بریانی اور پلاؤ شاہی دستر خوان کی شان سمجھے گئے وہی اُمراورؤسا کی محفلوں کی بھی جان مانے گئے بڑے بڑے نامور باورچی شاہی طعام خوانوں میں ایسی انواع واقسام کی بریانی اورپلاؤ بناتے تھے جن کا شہرہ آج بھی تاریخ کی کتابوں میں سنہری لفظوں میںیاد کیاجاتا ہے گزرتے وقت کے ساتھ پھر یہ دونوں ڈشز عام لوگوں کے ساتھ نوابوں کے دستر خوان کی زینت بنی۔باستمی چاول ہو یا سیلا چاول اِس کی اقسام کو مختلف نام دئیے گئے ۔ کہیں لکھنو بریانی کا نام دیاگیا تو کہیں بمبئی بریانی کہیں کچے گوشت کی بریانی کی پکار سُنی گئی تو کہیں زعفرانی پلاؤ کی خوشبو مہکی غرض ہر دور میں بریانی اورپلاؤ کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہی ہے۔ عید ہو یا کوئی اور خاص تہوار بریانی اورپلاؤ کے بغیر دستر خوان کی رونق اُدھوری سمجھی جاتی ہے۔اور پہلے دور میں جمعہ کے دن خاص طورپر تقریباً زیادہ تر گھروں میں اِن دونوں ڈشز کو اسپیشل طور پر بنایا جاتاتھا۔

غرض پوری دنیا میں بریانی اور پلاؤ کے متوالے موجود ہیں۔ اِن متوالوں کی چاہت میں ایک اور نئی جدت آئی ہے جس کو (Mandi) کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ عربی ڈش ہے جو آج کل پوری دنیا میں اپنے منفرد ذائقے کی بدولت بہت مشہور ہے۔ تقریباً ہر ملک میں(Mandi) ٹرینڈ میں شامل ہورہی ہے اور وہاں رہنے والے لوگوں میں بے پناہ پسند کی جارہی ہے پاکستان میں بھی(Mandi) بہت پسند کی جارہی ہے اور بڑے شہروں میں خاص طور پر(Mandi) بنائی گئی ہیں جہاں اِس کے شوقین افراد اپنے فیورٹ ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اگر دیکھا جائے تو گوشت وچاول اور مختلف مصالحہ جات کے تال میل وہی ہیں بس روایت الگ ہے۔ ذائقہ الگ ہے اور بنانے کا طریقہ منفرد ہے۔ بریانی سے پلاؤ اورپلاؤ سے مندی تک کا سفر اپنے اندر مختلف ثقافتیں اور جدتیں سمیٹے ہر ملک کے کلچر کی عکاسی کرتا ہے۔ کھانے پینے کے شوقین افراد کیلئے بریانی ہو یا پلاؤ، یا ہوMandiکا منفرد ذائقہ سب اپنے اپنے پسندیدہ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ہم بھی انہی فوڈیز میں شامل ہیں لیکن بریانی میری فیورٹ ڈش ہے۔ اور میرے خیال میں زیادہ تر لوگوں کو بریانی پسند ہے(Mandi) کا اپنا منفرد ذائقہ ہے اورمیرے خیال میں(Mandi) روز کھانے سے آپ کا دل بھر جائے گا لیکن بریانی روز کھانے سے بھی آپ کادل نہیں بھرے گا اسی وجہ سے بریانی ہر چھوٹے بڑے شہر میں ٹھیلوں پر دیگ رکھ کر بھی فروخت کی جاتی ہے جہاں سے ہر طبقہ کا فرد اس کو لے کر اپنا شوق پورا کرلیتا ہے اب چاہے برنس روڈ کی بریانی ہو یا کلفٹن کی(Mandi) یا دادی اماں کے پیارے ہاتھوں سے بنازعفرانی پلاؤ ہو چاہے ایران ہو یاترکی ،انڈیا ہو یا پاکستان یا دنیا کا کوئی بھی ملک ہو ہمارے روایتی کھانے روایتوں کے علمبردارہیں اور ہمارے کلچر کا خوب صورت عکاس ہیں

Top